عید الاضحیٰ پر کانگو بخار سے بچیں

0
891

کانگو بخار Crimean–Congo hemorrhagic fever (CCHF) ایک ایسا جان لیوا بخار ہے جو مویشیوں کی جلد میں موجود چیچڑ (TICS)(جو کہ مختلف جانوروں مثلاًبھیڑ، بکریوں، بکرے، گائے، بھینسوں اور اونٹ کی جلد پر پائے جاتے ہیں اور یہ جوں کی شکل سے ملتا ہوا، قدرے لمبا کیڑا ہوتا ہے) کی وجہ سے ہوتا ہے، اور یہ چیچڑ (TICS)ہی اس بیماری کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔۔ یہ وائرس ایک جانور سے دوسرے جانور اور جانوروں سے انسانوں تک منتقل ہوتا رہتا ہے۔ یہ وائرس متاثرہ مویشی یا انسان کے خون یا رطوبت سے بھی پھیل سکتا ہے۔ اگر یہ چیچڑ (TICS)کسی انسان کو کاٹ لے تو وہ انسان فوری طور پر کانگو بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ کانگو بخار (CCHF) ایک ایسی متعدی بیماری ہے جس میں مبتلا ہونے والا مریض ایک ہفتہ کے اندر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے- یہ ایک ایسی متعدی بیماری ہے، جس کی شرح اموات بہت زیادہ ہے۔

اس بخار کا سب سے زیادہ خطرہ ان لوگوں کو ہوتا ہے جو لائیو اسٹاک اور مذبح خانوں سے منسلک ہیں، ایسے لوگوں میں یہ کانگو بخار عام افراد کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ کانگو بخار ایک انسان سے دوسرے انسان میں خون، متاثرہ شخص کے اعضاء، رطوبت اور جسمانی تعلقات سے پھیلتا ہے، جبکہ طبی عملے میں اگر انہوں نے اپنا حفاظتی لباس نہ پہنا ہو انکو متاثرہ شخص کا علاج کرتے ہوئے یہ لاحق ہوسکتا ہے، متاثرہ مریض کے لئے استعمال کئے گئے طبی آلات بھی اگر کسی بھی اور شخص کے لئے استعمال کئے جائیں تو وہ بھی اس کا شکار ہو سکتا ہے۔

اگر ٹکس کاٹ جائیں تو درج ذیل علامات ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں
• تین سے نو دن کے درمیان بخار چڑھنا شروع ہوجاتا ہے
• پٹھوں میں درد، تھکاوٹ، گردن میں درد/اکڑاؤ محسوس ہوتا ہے
• آنکھوں کا سرخی مائل ہوجاتی ہیں اور ان میں درد ہوتا ہے
• دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے
• جلد پر سرخ دھبے پڑنا شروع ہوجاتے ہیں
• بروقت علاج پر توجہ نہ دی جائے تو جگر اور تلی بڑھ جاتی ہے
• ناک، کان، آنکھوں اور مسوڑوں سے خون رسنا شروع ہوجاتا ہے اور انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے

patientمعالج اور تیماردار بھی کانگو بخار کے مریض سے احتیاط برتیں
• معالج اپنے ہاتھوں پر دستانے پہنے، منہ کو ڈھانپے
• خصوصی جوتے پہنیں اور آلات جراحی استعمال کرتے ہوئے یہ خیال رکھیں کہ انہیں یہ آلات ہرگز نہ چبھیں اور نہ ہی کسی اور پر استعمال ہوں
• اس کے ساتھ ساتھ مریض کو آئسولیشن وارڈ میں رکھا جائے اور دیگر مریضوں اور افراد کا داخلہ وہاں ممنوع ہو
• مریض کے زیر استعمال چادریں تولیہ اور دیگر اشیاء کو تلف کر دیا جائے
• مریض کے لواحقین بھی ماسک اور دستانے پہن کر اس کی تیمارداری کریں
• مریض کے خون اور یا کسی طرح کے بھی مواد کو ہاتھ نہ لگائیں، ہر کام دستانے پہن کر اور منہ ڈھانپ کر کریں
• مریض کی وہ اشیاء جو جراثیم آلود ہوجائیں ان کو تلف کر دیں
• اس کے بعد پورے گھر میں جراثیم کش ادویات کا اسپرے کروائیں

animal 1جانور کی خریداری کرتے وقت احتیاط کریں
• خریداری کرتے ہوئے اور مویشیوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے پورے آستین والی قمیض پہنیں
• ہاتھوں پر دستانے پہنیں، منہ کو ماسک سے ڈھانپ لیں
• ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں کہ اگر کوئی چیچڑ کپڑوں پر چپک جائے تو نظر آجائے
• جوتوں کے ساتھ جرابیں پہن لیں، ہاتھ جراثیم کش صابن سے دھوئیں
• جانور کو باندھنے والی جگہ پر چونے کا چھڑکاؤ کردیں

مویشیوں کا کاروبار کرنے والے حضرات بھی احتیاط کریں
• مویشیوں کا کاروبار کرنے والے اپنے جانور رکھنے کی جگہ پر اسپرے کروائیں
• جانوروں کا ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں
• کسی جانور پر بھی چیچڑ (TICS)نظر آئیں تو اس کو فوری طور پر الگ کردیں ورنہ باقی جانور بھی بیمار ہو جائیں گے
• جانوروں پر چیچڑ (TICS) کی افزائش روکنے والے اسپرے کریں یا پاوڈر کا چھڑکاؤ کریں

animalقربانی کا جانور ذبح کرتے ہوئے احتیاط کریں
• قربانی کا جانور لینے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ کہیں جانور بیمار تو نہیں یا اس کی جلد پر چیچڑ (TICS) تو نہیں چپکی ہوئیں
• جس وقت قربانی ہو تو اس وقت جانور کے خون اور آلائشوں کو ہرگز ہاتھ نہ لگائیں
• منہ احتیاطاً ڈھانپ لیں
• جانور ذبح کرنے کے بعد آدھا گھنٹا انتظار کریں تاکہ جانور میں سے خون نکل جائے پھر کھال اتاریں اور گوشت بنائیں
• خون ہرگز بھی اپنے جسم اور منہ پر نہ لگنے دیں
• قربانی سے فارغ ہو کر نہا کر کپڑے تبدیل کریں
• مویشیوں کی آلائشوں کو آبادیوں اور سڑکوں پر ہر گز نہ پھینکیں

اگر کسی بھی شخص میں کانگو فیور کی علامت دیکھیں تو اس کو فوری طور پر اسپتال لے جائیں، بروقت علاج سے بہت سی جانیں بچ سکتی ہیں۔ بر وقت علاج سے ہی صحتیابی ممکن ہے، علاج میں دیر ہو جائے تو زیادہ تر کیسز میں مریض اس بیماری کے دوسرے ہفتے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے، کانگو بخار سے بچاؤ کے لئے فی الوقت کوئی ویکسین دستیاب نہیں اس لئے احتیاط سے ہی اس بخار سے بچا جاسکتا ہے۔