ہائی بلڈ پریشر

0
545

ہائی بلڈ پریشر ( High Blood Pressure) کا لفظ زبان زد عام ہے ۔ بلڈ پریشرکا مطلب ہے ــ ــ ــــجسم میں خون کادباؤ ۔جس کی بنیاد پر خو ن جسم کے ہر خلیہ میں پہنچتا ہے۔ خون کا دباؤ، دراصل صحت ہے اور زندگی کی رونق ہے ۔ خون ایک مرکب کا نام ہے جس کا کا م آکسیجن کو حاصل کرنا،اپنے اندر جذب رکھنا اور پھر جسم کے تمام خلیات تک پہنچا دینا ہے ۔ آکسیجن کے ساتھ ساتھ خوراک کے اجزاء مثلاََ گلوکوز، معدنیات ،پانی، نمکیات اورآسانی سے ہضم ہونے والی غذا پہلے خون کا حصہ بنتی ہے پھر خون تمام خلیات تک ان اجزاء کی ضرورت کے مطابق ترسیل کرتا ہے ۔خون کا کام صرف اتنا ہی نہیں بلکہ خون ہر خلیہ سے فاسد مادے جذب کرکے گردوں سے فلٹر کراتا ہے اس کے بعد پھیپھڑوں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرکے آکسیجن جذب کرتاہوا دوبارہ تمام جسم تک ہوا اور خوراک مہیا کرتا ہے۔

یہ عمل قدرت کا ایسا اعجاز ہے کہ اس میں انسانی ارادے کا عمل دخل نہیں ہے ۔ سانس ہو یا دل کی دھڑکن ،گردوں کی صفائی کا عمل ،غذا کے ہضم کا عمل ہو یا جگرکاخوراک کے اجزاء کو آخری شکل دینا سب کا سب خود بخود انسانی ارادے کے بغیر ہوتا ہے ۔آدمی زندگی کے دیگر معاملات میں اس قدر منہمک رہتا ہے کہ اسے کبھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ اس کی حرکات و سکنات ،غم و غصہ اور خوشی ، دولت ہو یا جاگیر، یہ تمام کی تمام صرف اس کے اندرونی نظام کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ غور کریں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اگر ہمارے دل ، جگر، گردے اور دماغ معمول کے مطابق کا م کرنا چھوڑ دیں تو آدمی اپنی تمام جمع پونجی ان اعضاء کا علاج کرانے میں خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ لیکن پھر بھی ضروری نہیں کہ حسب منشاء صحت ہوجائے۔

حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کتاب رنگ و روشنی سے علاج میں فرماتے ہیں کہ

دل کی جنبش اور پمپنگ سسٹم پیدائش سے موت تک کو سمک ریز کے ذریعے ہوتی ہے۔ لیکن یہ کو سمک ریز متوازن ہوتی ہیں اور ان کے داخل ہونے کا طریقہ مسامات کے ذریعہ قائم ہے۔ یہ ہمہ وقت دل کو ہلاتی ہیں لیکن زیادہ مؤثر وہ کو سمک ریزہیں جو دماغ کے مسامات سے داخل ہوتی ہیں۔ ان شعاعوں کی بھی بے شمار قسمیں ہیں، چناچہ یہ دماغ میں داخل ہوتے ہی ارب ہا ارب خلیوں میں عمل کرتی ہیں۔ یہ تمام برقی رو جو خلیوں میں بنتی ہے زیادہ تر ام الدّماغ کے ذریعے جسم کو ملتی ہے۔ اگر اس رو کی تقسیم صحیح ہوتی ہے تو آدمی تندرست رہتا ہے اور دل خون کو صحیح طریقہ پر پمپ کرتا ہے۔

یہ جاننا ضروری ہے کہ خون ہو یا دل ،کوئی بھی عضو آزادحیثیت نہیں رکھتا بلکہ جسم کے تمام اعضاء ایک دوسرے کے ساتھ منسلک اور مربوط ہوتے ہیں ۔ کہنے کو دل اور گردے دو الگ الگ اعضاء ہیں مگر ایک دوسرے سے منسلک اور معاون ہیں ، یعنی اگر گردے کسی بیماری یا انفیکشن سے متاثر ہوں لازماََ یہ بلڈ پریشر(Blood Pressure) کو بھی براہ راست متاثر کرے گا ۔اسی طرح آپ دیگر اعضاء پر بھی قیاس کر لیجیے۔فی الوقت ہم صرف بلڈ پریشر(Blood Pressure) تک محدود رہتے ہیں ۔

جسم انسانی میں جب تک زندگی رواں دواں رہتی ہے جسم میں بہنے والے ندی نالے ،دریاؤں میں پانی کی جگہ خون ہوتا ہے ۔یہ نالیاں کبھی تنگ اور کبھی چوڑی ہوتی رہتی ہیں ۔ اسکی مثال دریا کے پانی سے واضح ہوتی ہے۔ دریا کے پانی سے نہریں نکالی جاتی ہیں، نہروں میں سے چھوٹی نہریں، چھوٹی نہروں میں سے ندی (Water course)، اس میں سے چھوٹی چھوٹی نالیاں نکل کر کھیتوں کو سیراب کرتی ہیں۔ اگر ہم کھیت کو بمنزلہ جسمانی عضو قیاس کرلیں تو یہ معمہ آسانی سے حل ہو جاتا ہے۔جب یہ نالیاں تنگ ہوں تو ان میں خون کی روانی تیز ہو جاتی ہے جب یہ نالیاں پھیل جا ئیں توان میں خون کی روانی سست ہوتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے دریا جب کسی تنگ جگہ سے گذرتا ہے تو پانی کی رفتار تیز ہوتی ہے ۔یہی دریا جب کھلے میدان میں بہتا ہے تو اس کا پاٹ چوڑا ہو کر رفتار سست ہو جاتی ہے۔اسی طرح جب خون کی نالیاں تنگ ہوں تو ہائی بلڈ پریشر (High Blood Pressure) کا سبب ہوتی ہیں لیکن جب نالیاں کھلی ہو کر پھیل جائیں تو اسے لو بلڈ پریشر (Low Blood Pressure)کا نام دیا جاتا ہے۔

بلڈ پریشر مسلسل زیادہ رہنا براہ راست دل کو متاثر کرتا ہے اور طرح طرح کے امراض کا سبب بنتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ مرض دیگر جسمانی اعضاء جیسے گردوں اور آنکھوں کو متاثر کر تا ہے حتیٰ کہ دماغ کی رگ پھٹ جانے جیسی خطرناک اور جان لیوا حالت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر انسان کی عمر کو کم کرتاہے ۔ خون کی شریانیں سخت اور بے لچک ہو جاتی ہیں اور ان نالیوں کا اندرونی حصہ تنگ ہوتا چلا جاتا ہے اور اگر خون کی پھٹکی( CLOT )ان نالیوں میں سے گذرتے ہوئے رک جائے اور اگر وہ نالی یا شریان دل کو خون پہنچا رہی ہو تویہ صورتحال دل کے دورے کا سبب بن جاتی ہے اسی کو (Myocardial Infarction) کا نام دیا جاتا ہے اور یہ حالت اکثر جان لیوا ہوتی ہے۔ اگر خون کی پھٹکی (Clot)دماغ کی طرف جانے والی شریان میں چلی جائے تو دماغ کی رگ پھٹ جاتی ہے ، اس کے نتیجے میں فالج،لقوہ اورنچلے دھڑ کے فالج کا حملہ ہوجاتا ہے ۔ کبھی کبھی ہائی بلڈ پریشر کی حالت میں ناک اور کانوں سے خون بہنے لگتا ہے اگر چہ اس کیفیت کو بہتر کہا جاتا ہے کیونکہ اگر ناک کی رگ کی بجائے دماغ کی رگ پھٹ جائے تو یہ بے حد خطرناک حالت ہوتی ہے۔خیال رکھنا چاہیئے کہ ناک کان سے خون آنے کی اور بھی وجوہات ہو سکتی ہیں اس کا فیصلہ معالج کر سکتا ہے۔ہائی بلڈ پریشر مسلسل رہے تو دل کا سائز نارمل حد سے بڑھ جاتا ہے اس کی وجہ سے دل کی دھڑکن بے ربط ہو جاتی ہے۔اور دل جسم کو خون کی ترسیل مسلسل فراہم نہیں کرپاتا ۔ سانس رک رک کر آتا ہے۔

گردوں کابنیاد ی کام خون کی صفائی (Filtration) کرنا، جسم میں پانی اور نمک کا توازن برقراررکھنااور جسم سے فاضل مادے نکالنا ہے۔ اگر گردے نمک اور پانی کی فاضل مقداراور دیگر فاضل مادوں کو جسم سے خارج نہ کرے تو بلڈ پریشر بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔ وہ شریانیں جو خون کو گردوں تک پہنچاتی ہیں ان میں انفیکشن ہونے کی وجہ سے سختی پیدا ہو جاتی ہے جسے (Renal Artery Stenosis)کہا جاتا ہے، یہ مرض بھی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بنتا ہے۔گردوں کو خون کی سپلائی متاثر ہو نے کے نتیجے میں خون میں زہریلے مادے مثلاََ یوریا اور یورک ایسڈ بڑھ جاتے ہیں اور جسم طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے۔

جب خون شریانوں سے گزرتا ہے تو اس کی دیواروں کو اندر سے باہر کی جانب دھکیلتا ہے۔ جب شریانیں چوڑی ہوتی ہیں یا سکون کی حالت میں ہوتی ہیں تو بلڈ پریشر کم ہوتا ہے اور جب یہ تنگ ہوتی ہیں تو بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔ جب دل سے خون نکلتا ہے تودل سکڑتا ہے اور خون کو پمپ کرتا ہے اس وقت خون کا دباؤ بڑھا ہوا ہوتا ہے تاکہ شریانوں کے ذریعے آگے کی طرف بڑھ سکے اور جب دل آرام کی حالت میں ہوتا ہے تو خون کا دباؤ کم ہوجاتا ہے۔ خون کا بڑھا ہوا دباؤ Systolic Pressure کہلاتا ہے۔جبکہ آرام دہ حالت کا دباؤ Diastolic Pressure کہلاتا ہے۔

یہ جاننا ضروری ہے کہ بلڈ پریشر کس وقت لیا گیا ہے کیونکہ بلڈ پریشر وقتاََفوقتاََ بدلتا رہتا ہے ۔جب ہم پرسکون ہوں بلڈ پریشر کم ہو تا ہے ۔ ذہنی دباؤ ، پریشانی ،خوف ، غصہ اور انتقامی جذبہ کے عالم میں بلڈ پریشر زیادہ ہو جاتا ہے ۔ ورزش اور دوڑ سے بھی بلڈ پریشر وقتی طور پر بڑھ جاتا ہے ۔نیند اور لیٹنے کی حالت میں کھڑے ہونے کی نسبت بلڈ پریشر زیادہ ہوتا ہے۔چناچہ معالج کو تمام حالات دیکھ کر فیصلہ کرنا چاہیئے ۔

ہا ئی بلڈ پریشرکیوں ہوتا ہے اس کی وجوہات بہت سی ہیں تا حال پوری سامنے نہیں آئی ہیں ،جن ٹھوس وجوہات پر ماہرین طب متفق ہو چکے ہیں ، درج ذیل ہیں :۔

تمباکو نوشی : سگریٹ، سگار، بیڑی اور حُقہ یہ سب تمباکو نوشی کے زمرے میں آتے ہیں ۔ تمباکو میں اہم ترین جزو نکوٹین ہے جس کے بارے میں اکثر یہ غلط فہمی ہے کہ یہ صرف پھیپھڑوں میں سانس کی نالیوں کومتاثر کرتا ہے بلکہ سگریٹ نوشی کے ذریعے یہ نکوٹین خون میں شامل ہو کر آہستہ آہستہ دیگر اعضاء کو بھی متا ثر کر تا ہے ۔نکوٹین گردوں کے غدودAdrenal Glands پر اثر ا نداز ہوتا ہے اس عمل کے نتیجے میں ایک ہارمون Renin کا اخراج ہوتا ہے جس سے خون کی نالیاں سکڑنے لگتی ہیں ۔ اور بلڈ پریشر بڑھنے لگتا ہے۔ نکوٹین مسلسل خون میں رہتی ہے اور خون کی نالیوں کے مسلسل تنگ رہنے سے دل پر دباؤ بڑہنے لگتا ہے۔ دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے ۔ سگریٹ نوش کو سانس پھولنے کی تکلیف شروع ہو جاتی ہے ۔اور یوں دل کے امراض کا آغاز ہونے لگتا ہے۔یہ بھی عام طور پر دیکھا گیا ہے جن گھروں میں تمباکو نوشی ہوتی ہے وہاں کے دیگر افراد خصوصاََ بچے اور بچیاں سگریٹ نوش نہ ہونے کے باوجود نکوٹین کو اپنے اندر جذب کرتے رہتے ہیں ۔ اس طرح ان میں بھی سانس، پھیپھڑوں ،تھائی رائیڈ گلینڈز اور دل کے مختلف عوارض پیدا ہو جاتے ہیں ۔

Excess Saltنمک کی زیادتی : بعض گھرانوں میں نمک زیادہ استعمال کرنے کا رواج ہوتا ہے اور انفرادی طور پر کئی لوگ نمکین اشیاء زیادہ رغبت سے کھاتے ہیں جسم میں نمک کی زیادتی High Blood Pressure کا سبب بنتی ہے ۔

 

وراثت : موجودہ سائنس نے جینز(Genes) کے انسانی زندگی کے کردار پرحیرت انگیز معلومات دی ہیں ۔انسانی زندگی کا کردار ، عادات ، مزاج ، رنگ و روپ اس کے جینز میں ریکارڈ ہوتے ہیں اسی طرح بیماریاں بھی جینز میں ریکارڈ رہتی ہیں اور اگلی نسل کو یہ ریکارڈ منتقل ہو جاتا ہے ۔سائنسی طور پر یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ High Blood Pressure بھی وراثت میں منتقل ہوتا ہے ۔ بچے میں نمک اور پانی کا مخصوص توازن بگڑ نے سے اس مرض کا آغاز ہوتا ہے اگر ماں یا باپ اس مرض کا شکار ہیں تو ان کے لیے لازم ہے کہ اپنے بچوں کا بلڈ پریشر چیک کرا تے رہیں ۔ کیونکہ اگر احتیاط نہ کی جائے تو لاعلمی میں بچے کے گردے ، آنکھیں اور دل متاثر ہو کر پیچیدگیوں کا شکار ہوسکتے ہیں ۔

ڈپریشن اور اعصابی تناؤ : یہ کیفیت بنیادی طور پر بلڈ پریشر بڑھانے کا سبب ہے آج کے پر ہنگم دور میں جب آدمی ہر وقت کسی نہ کسی مسئلے اور پریشانی میں مبتلا رہتا ہے ۔اعصاب مسلسل کام کی فکر،دماغی کشمکش اور جھنجلاہٹ کی بناء پر دباؤ کا شکار رہتے ہیں تو بالکل سگریٹ نوش کی طرحان کے گردوں اور دماغ کے غدود مختلف ہارمون خارج کرتے ہیں اور اس طرح اکثر افراد جن میں مرد ہوں یا خواتین High Blood Pressure کے مریض بن جاتے ہیں۔Depression سماجی مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ افرادجو ایسے اداروں میں کام کرتے ہیں جہاں کام یا دیگر وجوہات کیبنا ء پر ذہن پر اکثر دبا ؤ رہتاہے زیادہ تر اس مرض کا شکار رہتے ہیں۔

Kidney Diseaseگردوں کی تکالیف : گردوں کی ناقص کارکردگی براہ راست بلڈ پریشر کا سبب بنتی ہے ۔اسکا سبب کبھی پتھری کا پیدا ہونا ، گردوں کا سکڑنا، چھوٹا یا بڑا ہونا ہے یا پیدائشی کمزور ہونا ناقص کار کردگی کا سبب ہے۔ یہ جاننا بھی اہم ہے کہ گردے نا صرف خون کی صفائی کرتے ہیں بلکہ ان کا ایکاور اہم ترین کام خون میں نمک اور پانی کے توازن کو برقرار رکھنا بھی ہے ۔ اگر گردوں کی کارکردگی ناقص ہے تو یہ خون سے نمک کا مناسب اخراج نہیں کرپاتے ۔ جسم میں نمک کی موجودگی کی یہ خاصیت ہے کہ اپنے ساتھ پانی کو روکے رکھتا ہے ۔خون میں نمک کی مقدار بڑھنےسے خون میں پانی کی زیادتی بھی ہوسکتی ہے۔ اس زیادتی کو کم کرنے کے لیے ایک طرف مخصوص نظام کے تحت دل خون کو پمپ کرنے کی رفتار بڑ ھا دیتا ہے۔دوسری طرف گردوں کے مقام پر موجود غدود (Adrenal Glands) متحرک ہو کر ہارمون کا افراز کرنا شروع کر دیتےہیں ۔چونکہ گردوں سے نمک کے اخراج کی کارکردگی ناقص ہے اس لیے خون میں نمک کی مقدار بڑہتی رہتی ہے ۔اس طرح بلڈ پر یشرکے مرض میں پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں ۔ اکثر مریضوں میں پیروں پر سوجن اور جسم کے اوپر کے حصوں پر سوجن کا سبب بھی یہی ہوتا ہے ۔پیدائشی طور پر یا خالص ادویات کے نہ ہونے کے سبب گردوں کے مقام کے غدود کا سائز بڑ ھ جاتا ہے اور اس طرح خون کی نالیاں مسلسل تنگ رہنے لگتی ہیں اور بلڈ پریشر ہا ئی ہو جاتا ہے۔

DRUG ABUSEنشہ آور چیزوں کا استعمال: نشہ آور چیزوں اورشراب کے مسلسل استعمال سے بھی بلڈ پریشر میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ نشہ آور چیزوں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ جگر کے خلیات کو تباہ کرتی ہیں۔ انسانی جسم میں جگر کی حیثیت ایک فیکٹری کی طرح ہے جو سو سے زائد ہارمون پیدا کر
تا ہے ہماری خوراک ہو یا ادویات جگر کے پیچیدہ مرحلوں سے گذ ر کر خون کا حصہ بنتی ہے ۔ دیکھا گیا ہے کہ نشے کے عادی افراد اپنی اس عادت کو معالج سے چھپا ئے رکھتے ہیں انہیں چاہیے کہ علاج کراتے ہوئے معالج کو اپنی اس عادت سے ضرور آگاہ رکھیں ۔

Preserve Foodسیل بند کھانے پینے کی اشیاء: بازار میں موجود ڈبہ بند اشیاء جن میں اچار، مربّے ،چٹنیاں اور شربت شامل ہیں ان کو لمبی مدت تک محفوظ رکھنے کے لئے مخصوص کیمیکل ڈالے جاتے ہیں ۔ یہ کیمیکل بھی جسم میں دیگر امراض کے ساتھ ساتھ بلڈ پریشر بڑھانے کا سبب بنتے ہیں ۔

 

 

 

 

Diabetic patient doing glucose level blood testذیابیطس (شوگر): اس مرض میں خون میں شکر کی مقدار اپنی حد سے بڑھ جاتی ہے ۔یہ مرض طرح طرح کی پیچیدگیاں پیدا کرتاہے اگرخون میں شکر کی مقدار کو کنٹرول میں نہ رکھا جائے تو یہ مرض ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض کا اہم سبب بنتا ہے ۔

 

 

High Blood Pressureہائی بلڈ پریشر کی علامات: اس مرض کی عمومی علامات میں چکر آنا اور سر درد کی شکایت ہوتی ہے۔ کانوں میں سنسناہٹ اور ارتکاز توجہ میں دشواری ہوتی ہے۔ معمول کی محنت اور جسمانی حرکت سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ گھبراہٹ اوردل کے مقام پر بے چینی کا احساسہوتا ہے۔ پنڈلیوں میں اینٹھن محسوس ہوتی ہے۔ مرض کی شدت میں غشی طاری ہوجاتی ہے۔ بعض اوقات نکسیر جاری ہوجاتی ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض مریضوں میں ہائی بلڈ پریشر کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں بلکہ کسی بھی مرض میں معالج سے رجوع کرنے پر جب معالج معائنہ کرتا ہے تو بلڈ پریشر بڑھا ہوا ہوتا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر کا علاج اور پرہیز: مریض کو اپنی عادات اور مزاج کا جائزہ لینا چاہئے کہ ایسے کون کون سے عوامل ہیں جو ذہنی اور اعصابی طور پر اسے مضمحل رکھتے ہیں اوراس مرض کا سبب ہیں ۔موروثی حالت کے علاوہ باقی تمام حالتیں ایسی ہیں کہ مریض
اگر اپنی سوچ اور طرز زندگی بدل لے تو کافی حد تک اس مرض سے شفا یابی کی امیدکی جا سکتی ہے۔

حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب فرماتے ہیں کہ

ہائی بلڈ پریشر کے مریض کو وضو کروائیں بلڈ پریشر نارمل ہوجائے گا۔ وضو کے دوران جب ہم اپنا چہرہ، اور کہنیوں تک ہاتھ دھوتے ہیں، پیروں اور سر کا مسح کرتے ہیں تو ہمارے اندر دوڑنے والے خون کو ایک نئی زندگی ملتی ہے۔ جس سے ہمیں سکون ملتا ہے۔ اس تسکین سے ہمارا سارا اعصابی نظام متاثر ہوتا ہے۔ پرسکون اعصاب سے دماغ کو آرام ملتا ہے۔ اعضائے رئیسہ، سر، پھیپھڑے، دل اور جگر وغیرہ کی کارکردگی بحال ہوتی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کم ہوکر نارمل ہوجاتا ہے۔

  • اس لئے اس مرض میں مبتلا افراد کو باوضو رہنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
  • سب سے اہم بات ورزش کا فقدان ہے ۔ اگر پابندی کے ساتھ جسمانی ورزش کو معمول بنایا جائے تواس مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔خصوصاََ روزانہ صبح شام چالیس چالیس منٹ پیدل چلنا اہم ترین ہے۔
  • موٹاپا اس مرض کا ایک اہم سبب ہے اس لئے وزن کم کرنے کی کوشش کی جائے۔
  • نیند کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ کم سے کم نیند کا دورانیہ سات سے آٹھ گھنٹے ہونا چاہئے۔
  • تمباکو نوشی اور شراب سے ہمیشہ کے لیے پرہیز لازم ہے۔
  • غذامیں چکنائی اور گوشت کی مقدار کم سے کم رکھی جائے اور غیر خالص چکنائیوں سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔
  • نمک کا زائد استعمال ترک کیا جائے۔
  • ذہنی اور اعصابی تناؤ سے بچا جائے اس کے لیے اپنے گھر اور دفتر کاماحول خوشگوار بنایا جائے۔
  • ذیابیطس(Diabetes) کے مرض کو کنٹرول کرنا نہایت ضروری ہے ۔
  • ہائی بلڈ پریشر کے ضمن میں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ خوراک میں خاص احتیاط رکھیں کہ اس میں چکنائی، گوشت اور نمک کم سے کم ہو ۔ سبزیوں کا استعمال زیادہ ہونا چاہیے۔
  • وہ اشیاءجن میں پوٹاشیم، کیلشیم اور میگنیشیم کی مقدار زیادہ ہووہ قدرتی طور پر ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں مثلاً پالک، سورج مکھی کے بیج، کشمش، خوبانی، کھجور، انجیر، کیلا اور سویا وغیرہ
  • کافی کا استعمال بہت مضرہوتا ہے ۔نیز چائے بھی کم سے کم استعمال کی جائے ۔
  • بلڈ پریشرکی اہم ترین وجہ اعصابی تناؤ ہے جس کا اہم سبب غصہ ہے ۔غصہ سے پرہیز لازم ہے کیونکہ غصہ کی آ گ غصہ کرنے والے کے خون میں ارتعاش پیدا کرتی ہے اس طرح اس کے اعصاب متاثر ہو کر پیچیدگیاں پیدا کر د یتے ہیں ۔
  • ادویات کے استعمال میں بہت احتیاط رکھنی چاہیے محض کتاب میں دیکھ کر یا کسی سے سن کر ادویات کا استعمال نقصان کا باعث ہوتا ہے ۔اسی طرح مانع حمل ادویات بھی مستند معالج کے مشورے سے ہی استعمال کی جانی چاہئیں۔
  • چالیس سال سے زائد ، ذیابیطس میں مبتلا ، لمبے لمبے سفر کرنے والے و دیگر امراض میں مبتلا افراد کو بھی ہفتہ میں ایک بار اپنا بلڈ پریشر چیک کروانا چاہئے ۔ اگر بلڈ پریشر کا عارضہ سامنے آجائے تومستند معالج سے باقاعدہ علاج ضروری ہے ۔ بازار میں اس مرض کے لیے قسم قسم کی
    ادویات دستیاب ہیں لیکن معالج کے مشورے کے بغیر ان کا استعمال شدید پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔
  • لہسن کا استعمال دل اور خون کی بیماریوں میں انتہائی مؤثر ثابت ہوتا ہے مثلاً ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول کی زیادتی، شریانوں کی سختی وغیرہ۔ لہسن کا استعمال کسی بھی طریقہ سے کیا جا سکتا ہے بالخصوص روزآنہ صبح نہار منہ دو یا تین جوے کھانا مفید ہے۔
  • ادرک دو کھانے کے چمچ، لہسن ایک کھانے کا چمچ، دھنیا خشک ایک چائے کا چمچ، کالی مرچ8عدد، زیرہ سفیدایک کھانے کا چمچ، انگور کا سرکہ دو کھانے کے چمچ لے کر اسکی چٹنی تیار کرلیں اور صبح و شام کھائیں۔ نا صرف غذا کے ہضم میں مددگار ہے بلکہ کولسٹرول اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے مفید ہے۔
  • جب بھی پانی پئیں یا حی قبل کل شیی یا حی بعد کل شیی تین بار پڑھ کر دم کرلیں۔مندرجہ ذیل نقش سبز رنگ کی روشنائی سے مومی کاغذButter Paper پر لکھ کر گلے میں پہنیں اور مزیدنقش مومی کاغذ یا سفید چینی کی پلیٹوں پر لکھ کر سبز شعاعوں کے پانی سے دھوکردن میںدوبار پئیں۔Blood-Pressure
  • امراض کے علاج میں صدقہ کرنا بہت مفید ہے۔